بلوچستان میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ 2025 ایک بار پھر تنازعے کی زد میں آگیا ہے۔ صوبے بھر میں ہزاروں طلباء و طالبات نے ٹیسٹ کے نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ طلباء کا مؤقف ہے کہ امتحان میں سنگین بے ضابطگیاں ہوئیں، سوالات نصاب سے باہر تھے اور نتیجہ شفاف انداز میں جاری نہیں کیا گیا۔
طلباء کا الزام: ’’ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ غیر منصفانہ تھا‘‘
طلباء کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں لیے گئے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کے دوران کئی ایسے سوالات شامل کیے گئے جو وفاقی نصاب سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ کوئٹہ، خضدار، سبی اور تربت سمیت مختلف سینٹرز کے امیدواروں نے بتایا کہ کیمیاء اور حیاتیات کے پرچوں میں 20 سے 30 فیصد سوالات نصاب سے باہر تھے۔
ایک طالب علم عائشہ بلوچ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا:
> "ہم نے پورا سال محنت کی، لیکن جب پیپر میں وہ سوال آئے جو نصاب میں شامل ہی نہیں تھے تو ہماری تمام محنت ضائع ہوگئی۔ یہ ہمارے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہے۔”
والدین بھی میدان میں، شفاف انکوائری کا مطالبہ
طلباء کے ساتھ والدین نے بھی حکومت بلوچستان اور پاکستان میڈیکل کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کی مکمل انکوائری کرائی جائے۔ والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کے مستقبل سے کھیلنا ناقابلِ برداشت ہے اور اگر شفاف تحقیقات نہ ہوئیں تو وہ عدالتِ عالیہ بلوچستان سے رجوع کریں گے۔
والدین کی انجمن کے صدر حاجی کریم بازئی نے کہا
> "اگر ٹیسٹ میں غلطی ہوئی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ ہم اپنے بچوں کے مستقبل پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔”
سوشل میڈیا پر ’’#MDCAT_Protest_Balochistan‘‘ ٹرینڈ
بلوچستان کے نوجوانوں نے احتجاج کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر بھی منتقل کردیا ہے۔ #MDCAT_Protest_Balochistan اور #JusticeForStudents جیسے ہیش ٹیگز ٹوئٹر (ایکس) پر ٹاپ ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ کئی طلباء نے اپنے پرچوں اور سوالناموں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کر کے اس بات کا ثبوت دیا کہ سوالات نصاب سے باہر تھے۔
پی ایم سی اور حکومتی موقف
پاکستان میڈیکل کمیشن (PMC) کے نمائندوں نے مؤقف دیا ہے کہ ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ پورے ملک میں ایک ہی نصاب کے تحت لیا گیا، اور اگر کہیں تکنیکی غلطیاں ہوئیں تو ان کی نشاندہی کے بعد ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ تاہم طلباء کا کہنا ہے کہ بلوچستان کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا ہے اور ٹیسٹ کے دوران انتظامی کمزوریاں صوبے کے طلباء کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
بلوچستان کے وزیر تعلیم نے بھی اس معاملے پر نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت طلباء کے تحفظات کو سننے کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے گی جو ٹیسٹ کے سوالات اور نتائج کا ازسرِ نو جائزہ لے گی۔
عدالت جانے کی تیاری
طلباء تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ اگر دو ہفتوں کے اندر حکومت اور پی ایم سی نے ان کے مطالبات پورے نہ کیے تو وہ بلوچستان ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کریں گے۔بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل کے ایک رہنما نے کہا:
"ہم عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے تاکہ شفاف امتحانی نظام قائم کیا جا سکے۔ ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کو سیاسی یا انتظامی غلطیوں کی نذر نہیں ہونے دیں گے۔”
تعلیمی ماہرین کا مؤقف
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع پہلے ہی محدود ہیں۔ ایسے میں اگر ایم ڈی کیٹ جیسے اہم ٹیسٹ میں بے ضابطگیاں ہوں تو یہ طلباء کے اعتماد کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔پروفیسر منظور احمد کے مطابق:
"ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ ایک معیاری پیمانہ ہونا چاہیے۔ اگر طلباء کو یقین نہ رہے کہ نتیجہ شفاف ہے تو وہ اعلیٰ تعلیم سے بددل ہو سکتے ہیں، جو پورے تعلیمی نظام کے لیے نقصان دہ ہے۔”
طلباء کا مطالبہ: دوبارہ ٹیسٹ یا ری چیکنگ
زیادہ تر طلباء کا مطالبہ ہے کہ یا تو ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ دوبارہ لیا جائے یا کم از کم جوابی شیٹس کی ری چیکنگ کی جائے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ مارکنگ درست ہوئی ہے۔ کئی طلباء نے مطالبہ کیا کہ پی ایم سی ایک آن لائن پورٹل قائم کرے جہاں امیدوار اپنی مارکنگ دیکھ سکیں۔
نتیجہ: شفافیت ہی اعتماد کی بنیاد
بلوچستان میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بے چینی اس بات کی علامت ہے کہ ملک میں اعلیٰ تعلیم کے معیار اور شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اگر حکومتی ادارے بروقت اور منصفانہ کارروائی نہیں کرتے تو یہ مسئلہ صرف احتجاج تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عدالتوں تک جا پہنچے گا۔
بلوچستان کے طلباء کا مطالبہ بالکل واضح ہے —“شفاف ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ، سب کے لیے برابر مواقع!”
مزید معلومات کے لیے ہمارا ویب سائٹ ڈیلی رپورٹس پر تشریف لائیے

