کوئٹہ (ڈیلی رپورٹس) — گرین پاکستان پارٹی کے مرکزی صدر اقبال خان کاکڑ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کی مضبوطی اور عوامی فلاح کے لیے بلدیاتی نظام ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق، دنیا کی کوئی جمہوریت اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اختیارات نچلی سطح پر عوام کے نمائندوں کو منتقل نہ کیے جائیں۔
لوکل گورنمنٹ — جمہوریت کی نرسری
نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ اور بلدیاتی نظام دراصل جمہوریت کی نرسری ہے، جہاں سے نئی قیادت ابھرتی ہے، اور عوامی مسائل براہِ راست مقامی سطح پر حل ہوتے ہیں۔ اقبال خان کاکڑ کے مطابق، "بلدیاتی ادارے نہ صرف عوام اور حکومت کے درمیان ایک پُل کا کردار ادا کرتے ہیں بلکہ مقامی ترقی کے بنیادی ستون بھی ہیں۔”
بلوچستان میں مؤثر بلدیاتی نظام کی ضرورت
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے موجودہ انفراسٹرکچر، سیوریج، اور شہری سہولیات کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مؤثر اور بااختیار بلدیاتی نظام ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صوبے میں بڑھتی ہوئی آبادی، محدود وسائل، اور شہری انتظامات کی کمزوریوں کے پیشِ نظر، اگر مقامی حکومتوں کو اختیارات نہ دیے گئے تو گورننس کا بحران مزید گہرا ہوتا جائے گا۔
اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا فقدان
اقبال کاکڑ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے حکمران طبقات نے کبھی بھی نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ان کے بقول، “بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ہمیشہ اختیارات کو مرکز میں محدود رکھنے کی پالیسی اپنائی گئی، جس سے عوامی شمولیت کمزور ہوئی اور مسائل کے حل میں تاخیر پیدا ہوئی۔”
عوامی شمولیت اور مقامی حکومتوں کی اہمیت
انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی یہ روش نہ صرف جمہوری اصولوں کے منافی ہے بلکہ عوام میں محرومی کے احساس کو بھی بڑھاتی ہے۔ اگر مقامی حکومتوں کو مالی اور انتظامی آزادی دی جائے، تو عوام کے بنیادی مسائل — جیسے پینے کا پانی، صفائی، تعلیم، صحت، سڑکیں اور سیوریج — زیادہ تیزی سے حل ہو سکتے ہیں۔
برطانیہ کے بلدیاتی نظام کی مثال
اقبال خان کاکڑ نے برطانیہ کے بلدیاتی نظام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ "دنیا میں اگر کسی ملک نے بلدیاتی نظام کو حقیقی معنوں میں مضبوط کیا ہے تو وہ برطانیہ ہے، جہاں ہر شہری کو اپنی مقامی حکومت کے ذریعے براہِ راست فیصلہ سازی میں حصہ لینے کا موقع حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ کا مقامی حکومت ماڈل آج دنیا بھر میں جمہوری استحکام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔”
پرویز مشرف کے دور میں بلدیاتی اختیارات کی منتقلی
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں جنرل (ر) پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں ایک ایسا بلدیاتی ڈھانچہ قائم کیا گیا تھا، جس نے پہلی بار اختیارات عوام کی دہلیز تک پہنچا دیے تھے۔ "اس نظام کے ذریعے گاؤں اور یونین کونسل کی سطح پر ترقیاتی منصوبے بنے، اور عوامی نمائندے براہِ راست جواب دہ ہوئے۔ لیکن افسوس، بعد کی حکومتوں نے اس نظام کو برقرار رکھنے کے بجائے اسے کمزور کر دیا۔”
آئینی تحفظ اور قانون سازی کی ضرورت
اقبال خان کاکڑ نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے قومی سطح پر قانون سازی ضروری ہے۔ ان کے مطابق، “ہم قومی اسمبلی اور سینیٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بلدیاتی نظام کو آئینی تحفظ دیا جائے، تاکہ کوئی حکومت اپنی سیاسی ترجیحات کی بنیاد پر اسے معطل یا غیر فعال نہ کر سکے۔”
بلدیاتی انتخابات اور عوامی جواب دہی
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بلدیاتی انتخابات کو باقاعدگی سے کرانا آئینی ذمہ داری بنائی جائے، تاکہ منتخب نمائندے عوام کے سامنے جواب دہ رہیں۔ ان کے بقول، اگر بلدیاتی ادارے فعال ہوں تو صوبائی حکومتوں کا بوجھ بھی کم ہو گا اور ترقیاتی عمل تیز تر ہوگا۔
بلوچستان کے لیے شفاف اور خودمختار نظام کی ضرورت
اقبال کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے کے لیے ایک مضبوط، خودمختار، اور شفاف بلدیاتی نظام ہی وہ راستہ ہے جو عوام کو ترقی کے سفر میں شامل کر سکتا ہے۔ "ہمارے صوبے میں وسائل تو ہیں، لیکن منصوبہ بندی کی کمی اور انتظامی اختیارات کی غیر مساوی تقسیم نے ترقی کی رفتار سست کر رکھی ہے۔”
مالی اختیارات کی منتقلی اور حقیقی جمہوریت
انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نمائندوں کو صرف نام کے عہدے نہیں بلکہ مالی اختیارات بھی دیے جائیں تاکہ وہ مقامی ضروریات کے مطابق بجٹ ترتیب دے سکیں۔ اقبال کاکڑ کے مطابق، "جب تک اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں ہوتے، حکومتی پالیسیاں صرف فائلوں تک محدود رہتی ہیں، عوام کے مسائل نہیں۔”
عوامی آگاہی مہم اور اصلاحات
گرین پاکستان پارٹی کے صدر نے آخر میں کہا کہ ان کی جماعت عوامی سطح پر بلدیاتی نظام کے فروغ اور اصلاحات کے لیے آگاہی مہم شروع کرے گی، تاکہ لوگ یہ سمجھ سکیں کہ مضبوط بلدیاتی ادارے ہی مضبوط جمہوریت کی ضمانت ہیں۔
عوامی خدمت پر مبنی سیاست کا پیغام
انہوں نے کہا کہ “یہ وقت ہے کہ ہم روایتی سیاست سے نکل کر عوامی خدمت پر مبنی نظام کی طرف آئیں۔ جب عوام کو اپنی گلی، اپنے محلے اور اپنے شہر کے فیصلوں میں شامل کیا جائے گا، تب ہی حقیقی جمہوریت پروان چڑھے گی۔”
گرین پاکستان پارٹی کا مؤقف واضح اور اصولی ہے — کہ جمہوریت صرف اس وقت مضبوط ہوگی جب عوام کو فیصلہ سازی میں براہِ راست شامل کیا جائے۔اگر حکومتیں اختیارات نچلی سطح پر منتقل کر دیں تو عوامی فلاح کے منصوبے مؤثر انداز میں پایۂ تکمیل تک پہنچ سکتے ہیں۔بلدیاتی ادارے دراصل وہ پلیٹ فارم ہیں جہاں سے نئی قیادت ابھرتی ہے، اور یہی گرین پاکستان پارٹی کا سیاسی فلسفہ بھی ہے۔
Table of Contents
گرین پاکستان پارٹی

