ڈیلی رپورٹس
عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور باچا خان کے فکری وارث، ایمل ولی خان نے اپنے حالیہ بیان سے پاکستانی سیاست میں ہلچل مچا دی
ان کا کہنا تھا کہ "اگر اٹھارویں آئینی ترمیم کو چھیڑوگے تو ہم پاکستان کو چھیڑیں گے” — یہ جملہ بظاہر سخت مگر دراصل ایک تاریخی اور سیاسی تنبیہ ہے، جو صوبائی خودمختاری کے مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔
ایمل ولی خان کا مؤقف — صوبائی خودمختاری ہی پاکستان کی بقا
ایمل ولی خان کے مطابق اٹھارویں ترمیم صرف ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ صوبوں کی سیاسی بقا اور عوامی خودمختاری کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر وفاق یا کوئی ادارہ صوبوں کے اختیارات واپس لینے کی کوشش کرے گا تو یہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے پر براہِ راست حملہ تصور ہوگا۔
طاقت کا ارتکاز انتشار کو جنم دیتا ہے
ایمل ولی خان نے کہا کہ پاکستان کی اصل طاقت مرکز کے کمزور اور صوبوں کے مضبوط ہونے میں ہے۔ان کے بقول، اگر صوبوں کو وسائل، زبان اور اختیار سے محروم کیا گیا تو یہ ریاستی ہم آہنگی کے لیے خطرناک ہوگا۔
تاریخی تناظر — باچا خان سے ایمل ولی خان تک
عوامی نیشنل پارٹی ہمیشہ سے صوبائی خودمختاری کی علمبردار رہی ہے۔باچا خان، ولی خان اور اب ایمل ولی خان کا نظریہ یہی رہا ہے کہ وفاقی نظام میں ہر اکائی کو برابری کا حق دیا جائے۔ایمل ولی خان کا موجودہ بیان اسی فکری تسلسل کی توسیع ہے۔
سیاسی ردعمل — حمایت اور تنقید دونوں
کچھ سیاسی حلقوں نے ایمل ولی خان کے بیان کو سخت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے جملے وفاقی کمزوری کا باعث بن سکتے ہیں۔جبکہ حامیوں کے مطابق ان کا مقصد دھمکی نہیں بلکہ وفاقی توازن برقرار رکھنے کی وارننگ دینا ہے۔
اٹھارویں ترمیم اور وفاقی توازن
اٹھارویں ترمیم کے نتیجے میں صوبوں کو مالی اور انتظامی شناخت ملی،این ایف سی ایوارڈ نے وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن بنائی،اور صوبوں کو ترقیاتی منصوبوں میں خودمختاری حاصل ہوئی۔اس ترمیم کو کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش صوبوں میں احساسِ محرومی کو بڑھا سکتی ہے۔
نتیجہ — وفاقی اتحاد کا انحصار انصاف پر
ایمل ولی خان کے مطابق پاکستان کی وحدت کا دارومدار انصاف، برابری اور صوبائی خودمختاری پر ہے۔ان کا پیغام واضح ہے:”صوبوں کے حقوق سے چھیڑچھاڑ دراصل پاکستان کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔”
مزید معلومات کے لیے ہمارا ویب سائٹ ڈیلی رپورٹس پر تشریف لائیے

